پے[1]

قسم کلام: حرف جار ( واحد )

معنی

١ - پر، پہ، اوپر، تک۔  اور جب ملائکہ سے رب نے کہا یہ تیرے نائب بنانے والا ہوں اپنا میں زمیں پے      ( ١٩١٧ء، منظوم ترجمۂ قرآن مجید، آغا شاعر، ١٣ ) ٢ - لیکن، مگر۔  کمر ہر چند نہیں ظاہر پے قد ویسا ہی موزوں ہے میاں کم ہے ترا مصرا (مصرح) پے کوئی کچھ نہیں سکتا      ( ١٧١٨ء، دیوانِ آبرو، ٢ ) ٣ - سے۔ "دھوبی پے تو کپڑے دھلواتا ہے اور گھوڑے کے تائیں باگ دوڑ سے لے کے میخ سے باندھتا ہے"      ( ١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز و دلبر، ٧٧ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ 'پرے' سے ماخوذ 'پے' اردو میں بطور حرف استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوانِ آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - سے۔ "دھوبی پے تو کپڑے دھلواتا ہے اور گھوڑے کے تائیں باگ دوڑ سے لے کے میخ سے باندھتا ہے"      ( ١٧٤٦ء، قصہ مہر افروز و دلبر، ٧٧ )

اصل لفظ: پرے